اکیسویں صدی کی مقدس مریم

 

تحریر:عثمان غازی

وہ اکیسویں صدی کی مقدس مریم تھی، اس نے بھی کسی وجودکو جنم دینے کے لیے فطرت کی پاسداری  نہیں کی تھی مگر وہ پھربھی ایک وجود کو اپنالخت جگرکہتی تھی، اس دن جب کائنات پہلی دفعہ بیمارہوئی تو اس نے وہ ساری رات آنکھوں میں جاگ کرگزاری تھی، اسپتال کے سنگ مرمرکا فرش اس کے قدموں کی آہٹ سے آشناہوگیاتھا، کائنات کون تھی ، سوال یہ نہیں تھا، سوال تو یہ تھاکہ کائنات اس کے لیے کیوں اہم تھی

Holy Marry

اس ننھے منے سے وجود میں ایسا کیاتھاجس کے سحر نے اس کو جکڑلیاتھا، سیب زمین پر کیوں گرا، جب نیوٹن نے اس سوال کی کھوج کی تو اس نے کشش ثقل دریافت کرلی تھی،کائنات کامعاملہ بھی  نیوٹن کی فلاسفی کی طرح تھا، وہ بھی اوپرسے نیچے آئی تھی مگر اس کی کھوج میں وہ الجھتی جارہی تھی

Continue reading

Posted in Usman Ghazi | Tagged , , , , , , , , | Leave a comment

لاؤڈاسپیکرعدالت میں

تحریر: عثمان غازی

لاؤڈ اسپیکر کوحاضر کیا جائے، جج کی پاٹ دارآوازکمرہ عدالت میں گونجتے ہی خاموشی چھا گئی
یہ اپنی نوعیت کا اہم مقدمہ تھا، دس لوگ محرم کے جلوس میں ہونے والے فساد میں مارے گئے تھے ،دوران سماعت بہت سے فریق پیش ہوئے، مولوی اور ذاکر پر سب سے زیادہ شک تھا مگر دونوں بچ نکلے، مولوی کا کہناتھا کہ وہ تو امن کی تلقین کررہاتھا، ہزاروں لوگوں نے بھی اس کی تائید کی، عدالت کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا کہ اسے مقدمے سے بری کردیاجائے، ذاکر کے ساتھ بھی یہی ہوا، عدالت کو کوئی ثبوت نہیں ملا، ذاکربھی بچ نکلا
اس مقدمے کی سب سے اہم کڑی لاؤڈاسپیکر تھا، اس لاؤڈاسپیکر سے کافر کافر کے نعرے لگے ، محرم کے جلوس میں شامل لوگ مشتعل ہوئے اورپھر فساد شروع ہوگیا، دس لوگ مارے گے، لاؤڈ اسپیکر سے کافرکافرکے نعرے سب نے سنےمگر ان نعروں کو لگانے والا کوئی نہ ملا، عدالت کے پاس کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ لاؤڈ اسپیکر کو ہی طلب کرکے مقدمے کی کارروائی آگے بڑھائے اور آج لاؤڈاسپیکر کے مقدرکافیصلہ ہوناتھا

Loudspeaker

کمرہ عدالت میں ایک جانب مولوی اور ذاکرٹھاٹھ سے بیٹھے تھے، گھنی داڑھی والا مولوی بڑی سی قبامیں کرسی پر بیٹھا اپنی انگلیوں سے داڑھی میں خلال کررہاتھااوراپنی موٹی گردن ہلا ہلا کر کمرہ عدالت پر طائرانہ نظردوڑارہاتھا، ذاکرایک کالے جبے میں تھا، ٹانگ پر ٹانگ جما کر وہ ایسے بیٹھا تھا کہ جیسے ابھی تقریرشروع کردے گا، کمرہ عدالت میں اگرچہ زیادہ تر ذاکراور مولوی کے حمایتی بیٹھے تھے تاہم اگلی نشستوں پر ریڈرکے آگے کچھ اجڑے اجڑے سے غریب لوگ بھی براجمان تھے، یہ لوگ مرنے والے دس لوگوں کے لواحقین تھے، کمرہ عدالت میں ایک تناؤ کی سی کیفیت تھی ، یہاں موجود ہر شخص ایک دوسرے کو گھوررہاتھا ، لواحقین بھی پھٹی پھٹی آنکھوں سے ادھرادھر دیکھ رہے تھے، سب کولاؤڈاسپیکر کاانتظارتھاکہ اچانک ہلچل مچی، عدالتی عملہ ایک بڑے سے تختے پر کسی چیز کو اہتمام سے لارہا تھا، یقیناً یہ وہی قاتل لاؤڈاسپیکر تھا، نجانے کیوں لاؤڈاسپیکر کو سرخ کے بجائے سفید چادرسے ڈھانپا گیاتھا، لاؤڈاسپیکر کو دیکھ کر مولوی نے اپناپہلو بدلا، ذاکر کی آنکھوں میں چمک آگئی، کمرہ عدالت میں سرگوشیاں بڑھ گئی تھیں

Continue reading

Posted in Usman Ghazi | Tagged , , , , , , , | 1 Comment

دوسری ملالہ۔۔۔۔۔! تحریروتحقیق: عثمان غازی

 

 ہل ایک  امریکی صحافی تھا، 1927میں اس نے اپنے ایک دوست ڈونلڈ نوالٹن کے ہمراہ ایک  پبلک ریلشن کمپنی بنائی ، نوالٹن ایک دیوالیہ ہوجانے والے بینک کاڈائریکٹرتھا،1946میں نوالٹن نے کمپنی کے سارے شئیرخرید لیے،ہل اینڈنوالٹن کمپنی  کانام حکومتوں کے مفاد میں کام کرنے والے ادارے  کے طورپر مشہورہوا، یہ کمپنی کسی بھی مہم کومیڈیااورتعلقات عامہ کے ذریعے ایک خاص رنگ  دینے میں مہارت رکھتی ہے، ترکی ، انڈونیشیااورمالدیپ کی حکومتوں کانام بھی ہل اینڈنوالٹن کے ساتھ لیاجاتارہاہے، آج اس کمپنی کے دنیاکے 52ممالک میں 90سے زائددفاترہیں،  1990میں ہل اینڈنوالٹن کمپنی نے ایک مہم چلائی ،یہ مہم 1990کی گلف وارمیں  اتحادیوں  کی حمایت کے لیے تھی، اس جنگ میں ہل اینڈنوالٹن نے   ڈیڑھ ارب روپے کے لگ بھگ پیسے کمائے

اس کہانی کاآغازدراصل صدام حسین کے 1990میں کویت کے حملے کے ساتھ ہوا، صدام حسین نے 8سال تک ایران سے ایک بے مقصد جنگ کے بعد تیل کے تنازع پر دواگست 1990کو کویت پر حملہ کردیااورمحض دودنوں میں کویت پر قبضہ کرکے اس کو عراق کا انیسواں صوبہ بنادیا، اگلے سات ماہ تک یہ قبضہ برقراررہااورپھر اس کے بعد 34ممالک کی افواج نے عراق کو تہس نہس کردیا،یہ جنگ عراق اورکویت کامسئلہ تھی، دوممالک کا جھگڑا عالمی مسئلہ کیسے بنا ، یہیں سے ہل اینڈنوالٹن کے کردارکاآغاز ہوتاہے

Nurse Nayirah

نیرہ اس وقت صرف 15سال کی معصوم لڑکی تھی، وہ کویت کے ایک اسپتال میں رضاکارانہ طورپر نرس کے فرائض انجام دیتی تھی، عراق کے کویت پر قبضے کے تیسرے ماہ 10اکتوبر1990کو نیرہ نے امریکا میں انسانی حقوق کے ادارے میں ایک یادگارتقریرکی، اس تقریرنے گویا کایاہی کلپ کردی، عراق اور کویت کی جنگ عالمی مسئلہ بن گئی، نیرہ نے اپنی تقریرمیں بتایاکہ عراقی فوجی کویت کے اسپتالوں میں نومولود بچوں کوقتل کردیتے ہیں، نیرہ کی تقریرخاصی جذباتی تھی، اس نے بتایاکہ وہ عینی گواہ ہے کہ عراقی فوجی نومولود بچوں کو انکیوبیٹرزسے نکال کر تڑپاتے ہیں اور پھر ان کو پھینک دیتے  ہیں،نیرہ نے بتایاکہ وہ جس اسپتال میں رضاکارانہ طورپر نرس کے فرائض انجام دیتی تھی، اس میں 300انکیوبیٹرز تھے، عراقی فوجیوں نے تمام انکیوبیٹرزسے بچوں کو نکال کر پہلے تڑپایااورپھر ماردیا،  نیرہ کی یہ جذباتی تقریر آناًفاناًپوری دنیامیں پھیل گئی ، اس تقریرکی اثرپذیری کایہ عالم تھاکہ اس وقت کے امریکی صدرسینئربش نے صرف ایک ہفتے میں نیرہ کے بیان کودس سے زائدمرتبہ دہرایا، تمام ٹی وی چینلزاوراخبارات نیرہ کے بیان کی کوریج میں مصروف تھے ،اس وقت کے عراقی وزیرصحت عبدالرحمان نے کہا بھی کہ  یہ واقعہ جھوٹ پر مبنی ہے، کسی عراقی فوجی نے کوئی ایسی حرکت نہیں کی، انہوں نے  بتایاکہ کویت کے 14 اسپتالوں کے لیے انہوں نے  ایک ہزارڈاکٹربھی بھیجے ہیں  مگر نقارخانے میں طوطی کی آوازکون سنتاہے، وہ وقت تو نیرہ کاتھا، ہرایک کی زبان پرنیرہ کی بات تھی،  انسانی حقوق کے تمام اداروں نے نیرہ کی بات کو صداقت پرمبنی قراردے دیاتھا،دسمبر1990میں ایمنسٹی  انٹرنیشل کی رپورٹ نے نیرہ کے بیان کی تصدیق کی کہ عراقی فوجیوں نے 300بچے انکیوبیٹرزسے نکال کرمارے ہیں، 34 ممالک کی فوجوں نے نیرہ کی بات کوجوازبناکرعراق کے خلاف لشکرکشی کردی،معصوم شہریوں سمیت تیس ہزارکے لگ بھگ عراقی فوجی قتل کردیئے گئے ، اس جنگ میں 489اتحادی فوجی بھی کام آئے

Gulf War

جنگ کے بعد جان مارٹن نامی صحافی نے عراق کادورہ کیا، اس نے کویت کے اس متنازع اسپتال کابھی وزٹ کیا، وہاں اس کی ملاقات کویت کے ہیلتھ ڈائریکٹرڈاکٹرمطرسے ہوئی، ڈاکٹرمطرنے بتایاکہ کویت میں اتنے انکیوبیٹرزہی دستیاب نہیں ہیں، ایک اسپتال میں تو دورکی بات ہے، پورے کویت کے اسپتالوں میں ملا کر300انکیوبیٹرزنہیں ہیں، ان کاکہناتھاکہ نیرہ کی بات کسی پروپیگنڈے کاحصہ معلوم ہوتی ہے،جنگ کے بعد ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی اپناایک وضاحتی بیان جاری کیا، ایمنسٹی انٹرنیشنل کاکہناتھاکہ ابتدائی رپورٹ کے مطابق اگرچہ یہ کہاگیاتھاکہ عراقی فوجیوں نے نومولود بچوں کوانکیوبیٹرزسے نکال کرقتل کردیاہے تاہم ان واقعات کاکوئی ثبوت نہیں ملا، نیرہ کی بات جھوٹ پر مبنی تھی، اس واقعے کے بعد کئی اورانکشافات ہوئے ، تحقیق کرنے والے صحافیوں کو پتہ چلا کہ نیرہ تو امریکا میں کویت کے سفیر سعود الصباح کی بیٹی ہے،  سعود الصباح کویتی شاہی فیملی کے ممبر بھی تھے ، بعد میں یہ بھی  علم ہواکہ نیرہ کی کہانی کے پیچھے ہل اینڈنوالٹن نامی کمپنی تھی ، جستجو کرنے والوں نے مبینہ طورپر عراقی فوجیوں کے ہاتھوں قتل ہونے والے 300بچوں کی قبروں کی تلاش کی بھی بہت کوشش کی مگرانہیں کچھ نہ  ملا

Continue reading

Posted in Exclusive Reports | Tagged , , , , , , , , , , , , , | 3 Comments

تک دھنادھن تک ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عثمان غازی

 

فاطمہ جناح عورت ہے ۔۔۔ اس کی حکمرانی جائز ہی نہیں ہے۔۔۔یہ آزاد خیال عورت ہے۔۔۔اس کو حکمرانی کی الف بے  تک نہیں پتہ۔۔۔عورت کا کام حکومت چلانا نہیں ہے۔۔۔اس کوووٹ دینا حرام ہے۔۔۔کیا ہوا کہ یہ بانی پاکستان کی بہن ہے۔۔۔کیا ہوا کہ اس کے بھائی نے پاکستان بنایا تھا۔۔۔ارے  ہے تو عورت ذات نا! ایوب خان فوجی ہے تو کیا ہوا۔۔۔ہے تو مرد کا بچہ ۔۔۔ تک دھنا دھن تک

ایوب کتا،ہائے ہائے ۔۔۔اس نے تاشقندمعاہدے میں پاکستان کو بیچ دیا۔۔۔قوم کو  بھارت سے جیتی ہوئی جنگ ہرادی ۔۔۔یہ آمر ہے ۔۔۔یہ قابض ہے۔۔۔اس کے دور میں چینی سواروپے سیر ہوگئی ۔۔۔اتنی مہنگائی ۔۔۔عوام چاشنی  تک کوترس گئے۔۔۔یہ امریکا کا پٹھو ہے۔۔۔عوام کو جمہوریت چاہیے۔۔۔اب راج کرے گی عوام ۔۔۔روٹی کپڑا اور مکان۔۔جئے بھٹو،جئے بھٹو ۔۔۔تک دھنا دھن تک

بھٹو مردہ باد ۔۔۔اس نے دھاندلی کی ہے۔۔۔یہ قاتل ہے۔۔۔سیکولر ہے۔۔۔نظام مصطفیٰ ہماری منزل ہے۔۔۔ سبز ہے سبز ہے ،ایشیا سبز ہے۔۔۔سرخوں کو مار بھگاؤ۔۔۔سر پر کفن باندھ کر نکلو ۔۔۔قوم دھاندلی کر کے جیتنے والے کے خلاف ہے۔۔۔نوستارے ،بھٹومارے۔۔۔گنجے کے سرپرہل چلے گا،گنجا سرکے بل چلے گا۔۔۔ہم لہرائیں گے اس ملک میں اسلام کا پرچم ۔۔۔مرد مومن مرد حق ۔۔۔ ضیاالحق،ضیاالحق۔۔۔تک دھنا دھن تک

ایک آمر اپنی موت مارا گیا۔۔۔بنا پھرتا تھا امیر المومنین۔۔۔دفن ہونے کے لیے زمین تک نہ ملی۔۔۔تین مہینے کے لیے آیا تھا۔ ۔۔ملک پر قبضہ کرلیا۔۔۔مہاجرین  کے نام پر ملک میں لاکھوں افغان مسلط کردیئے۔۔۔قوم کو بے مقصد جنگ میں جھونک ڈالا۔۔۔بدترین جمہوریت بہترین آمریت سے اچھی ہے۔۔۔ خس کم جہاں پاک۔۔۔بی بی تیرے جانثار ،بے شمار بے شمار۔۔۔تک دھنا دھن تک

بے نظیر حکومت ملک کی کرپٹ ترین حکومت تھی۔۔۔اچھا ہوابرطرف ہوگئی۔۔۔ملک تباہی سے بچ گیا۔۔۔ سارا پیسہ سوئس بینکوں میں ٹرانسفرکردیا گیا۔۔۔کچن کیبنٹ نہیں چلے گی۔۔۔یہ بھٹو کی پارٹی نہیں ہے۔۔۔اس کے باپ نے پاکستان توڑاتھا۔۔۔یہ ملک دشمن ہے۔۔۔بی بی جی بڑی اندھیر۔۔۔آٹا اٹھ روپے سیر۔۔۔اب ہر پاکستانی بنے گا۔۔۔نواز شریف کا سچا سپاہی۔۔۔تک دھنا دھن تک

نواز شریف نے ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچادیا۔۔۔اس سے ملک نہیں چلا ۔۔۔اس کے گھوڑے مربے کھاتے ہیں۔۔۔رائے ونڈ محل میں عیاشیاں کرتا ہے۔۔۔ملک کو دوبھائیوں کے چنگل سے آزاد کرانا ہوگا ۔۔۔جاگ پنجابی جاگ کا نعرہ لگانے والے کو اقتدار سے باہر کرو۔۔۔آمر کی گود میں پلنے والا نامنظور ۔۔۔ سارے ملک کی  ہے زنجیر۔۔۔پھرراج کرے گی بے نظیر۔۔۔تک دھنا دھن تک

مارے گئے۔۔۔روٹی کپڑا اور مکا ن تو کیا ملتا ۔۔۔جو تھا وہ بھی اجڑ گیا۔۔۔اچھا ہوا کچن کابینہ اپنی موت آپ مرگئی۔۔۔مسٹر ٹین پرسنٹ کا دور ختم ہوا۔۔۔مومن ایک سوراخ سے دوبار نہیں ڈساجاتا۔۔۔قوم نے عورت کو حاکم بنانے کا نتیجہ بھگت لیا۔۔۔ اسلامی جمہوریت ہماری آواز ہے ۔۔۔نواز شریف نجات دہندہ ہے۔۔۔شیر آیا،شیرآیا۔۔۔تک دھنا دھن تک

برے کا برا انجام۔۔۔اگرپرویز مشرف نہ آتا تو ملک تو گیا تھا۔۔۔خزانہ خالی ہوچکا تھا۔۔۔سرحدیں خطرناک ہوگئیں تھیں۔۔۔پرویز مشرف سچاکمانڈوہے۔۔۔ملک کو ایک سخت ایڈمنسٹریٹر کی ضرورت ہے۔۔۔اسلامی جمہوریت کے غبارے سے ہوا نکل گئی ۔۔۔ پرویزمشرف  نے ملک بچالیا۔۔۔شریف کی شرافت مردہ باد۔۔۔مشرف کی شرافت زندہ باد۔۔تک دھنا دھن تک

بگٹی کا قاتل۔۔۔لال مسجدکے معصوم طلبہ  کا قاتل۔۔۔امریکا کو ملک بیچ دینے والا۔۔۔پرویز مشرف غدار ہے۔۔۔انصاف کو بوٹوں تلے روندنے والافوجی حکمران ہمارے اعمال کی سزاہے۔۔۔ایک فون کال پر ڈھیر ہوجانے والانہیں چلے گا۔۔۔ جمہوریت بہترین انتقام ہے۔۔۔بی بی کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔۔۔آمریت مردہ باد۔۔۔جمہوریت زندہ باد۔۔۔تک دھنا دھن تک

جمہوریت نہیں انقلاب چاہیے۔۔۔آمریت بھی چلے گی۔۔۔پاکستان کے لیے جمہوریت موزوں ہی نہیں ہے۔۔۔ملک تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا۔۔۔ڈالر سوروپے کا ہوگیا۔۔۔بجلی نایاب ہوگئی۔۔۔تک دھنا دھن تک  ۔۔۔سفر جاری ہے۔۔۔جو  اس سفر میں ٹہر گئے ۔۔۔وہ سیاسی کارکن کہلائے ۔۔۔عوام اسی دھن پر مست ہیں۔۔۔ملک میں قانون ناچ رہاہے۔۔۔عوام ناچ رہی ہے۔۔۔حکمران ناچ رہے ہیں ۔۔۔یہاں سب   کے قدم ڈگمگارہے ہیں ۔۔۔اپنی اپنی شراب ہے۔۔۔اپنا اپنا جام ہے۔۔۔ایک نعرہ الست ہے۔۔۔سب تک دھنا دھن تک ہے۔۔۔یہ روٹی،کپڑااورمکان کی دھن ہے۔۔۔انصاف کا سازہے۔۔۔خاکی وردی کے ڈھولیکئے کی تھاپ ہے۔۔۔یہ تگنی کا ناچ ہے۔۔۔ ڈگڈگی ہے۔۔۔ مہنگائی اوربجلی کاباجا ہے ۔۔۔ڈنڈے والاراجا ہے اور باقی سب تک دھنا دھن تک ہے۔۔۔ہماری تاریخ تک دھنادھن تک سے شروع ہوتی ہے۔۔۔ہم ناچتے ناچتے جیتے ہیں۔۔۔ہم ناچتے ناچتے مرجاتے ہیں۔۔۔یہ ناچ ہماری رگوں میں سرایت کرچکا ہے۔۔۔یہ ہماری عادت ہے۔۔۔یہ ہماری شراب ہے۔۔۔ہمیں تک دھنا دھن تک کا نشہ ہے

پاکستانی قوم کانظریہ  تک دھنا دھن تک ہے ۔۔۔یہ قوم ڈگڈگی پر ناچتی ہے۔۔۔اس کو کوئی بھی جمع کرسکتا ہے۔۔۔کیسے نظریات۔۔۔کون سا ماضی۔۔۔سب تک دھنا دھن تک ہے۔۔ ایک دائرے میں کولہوکابیل گھومتا ہے۔۔۔پاکستانی قوم بھی ناچ رہی ہے۔۔۔قوم کو لیڈروں کی نہیں مداریوں کی ضرورت ہے۔۔۔نابالغ رویئے۔۔۔بے شعور نعرے۔۔۔گھاٹے کے سودے۔۔۔اٹھاؤجام۔۔۔باندھو گھنگھرو۔۔۔لگاؤدام۔۔۔تک دھنا دھن تک

Posted in Usman Ghazi | Tagged , , , , , , , , , , , , | 10 Comments

انقلاب کا بگل اور فتونائی

Usman Ghazi Column published on Fabruary 9, 2013 in Daily Express

Usman Ghazi Column published on Fabruary 9, 2013 in Daily Express

مزید آرٹیکل پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Posted in Usman Ghazi | Tagged , , , , , , , , , , | Leave a comment

کراچی کے شہری کی ڈائری

شہر کے چپے چپے پر پولیس، رینجرز اور فرنٹیئرکانسٹیبلری کے اہل کار تعینات ہیں، تمام راستے بلاک کردیے گئے ہیں، موبائل سروس بند ہے، موٹرسائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی ہے، ریاست کی جانب سے ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ گھر سے نہ نکلیں
یہ 23 نومبر 2012 کا کراچی ہے، رات 12بجے جب موبائل سروس تھوڑی دیر کے لیے کھولی گئی تو پہلا میسج تھا کہ بم دھماکے سے بچنے کے لیے سورہ اخلاص پڑھیں اور ٹارگٹ کلنگ سے بچنے کے لیے تین مرتبہ دعائے قنوت کا ورد کریں
ریاست کے وزیرباتدبیر رحمان ملک کا کہنا ہے کہ دہشت گردی سے بچنے کے لیے حفاظتی اقدامات کئے گئے ہیں، ہمیں ایسا لگ رہا ہے کہ ہم سب زیر حراست ہیں، کراچی کے دوکروڑ لوگوں کو یرغمال بنالیا گیا ہے، ہماری ہر گفتگوبم دھماکوں سے شروع ہوکر ٹارگٹ کلنگ پر ختم ہوجاتی ہے، ہمارے پاس بات کرنے کے لیے کوئی اور موضوع نہیں ہے، بابا بتا رہے تھے کہ ہم عہد رحمانی میں جی رہے ہیں

Continue reading

Posted in Usman Ghazi | Tagged , , , , , , , , | 10 Comments

الفاظ کی دنیا

الفاظ امر ہیں، یہ حساس ہوتے ہیں، ان کونازک آبگینے کی طرح نہ برتا جائے تو یہ روٹھ جاتے ہیں اور جس سے الفاظ روٹھ جائیں اس کی ناکامی باعث عبرت ہوتی ہے، جس شخص میں لفظوں کو برتنے جیسی خوبی نہ ہو اسے اپنی دیگر خوبیاں دکھانے کا موقع بھی نہیں ملتا

اظہار کا ہر عمل لفظ سے وابستہ ہے، الفاظ ساتھ دیں گے تو انسان بولے گا، الفاظ ساتھ دیں گے تو تحریروجود میں آئے گی، آواز ہو یا عبارت ۔ ۔ سب الفاظ ہیں، الفاظ اگر صحیح طور برتے جائیں تو یہ مخاطب کو اپنے سحر میں جکڑ لیتے ہیں

Continue reading

Posted in Usman Ghazi | Tagged , , , , , , , , , , , , , , , | 3 Comments